Archive for

Tabqaat-e-Noriya
Jul

4

2017

Tabqaat-e-Noriya

یہ ایک مختصر رسالہ ہے جس میں طبقات نوریہ کے حالات ہیں یعنی نوربخشی مشائخ کے سوانح حیات ،حسدان زمانہ اور غالی ارادتمندوں نے چونکہ ان کی تعریف اور مذمت میں اعتدال کی راہ چھوڑ دی اور افراط وتفریظ کی راہ اختیار کر رکھی ہے یہاں تک کہ حاکمان وقت ہر زمانہ میں ان کے متعلق کچھ ایسے شکوک وشبہات میں مبتلا رہے کہ ان کی تکلیف اور مضرت کا باعث ہوئے بعض ان میں سے قتل ہوئے اور شہادت کا شربت نوش کیا بعض قید وبند کے مصائب میں مبتلا رہے بعض اپنے شہر میں رہنے کے پابند رہے اور بعض کو ملک بدر کیا گیا اور ایسے حالات سید العارفین کے زمانہ سے لے کر آج تک مسلسل جاری ہے۔

Fiqul Ahwat 1
Apr

14

2016

Fiqul Ahwat 1

فقہ احوط میر سید محمد نوربخش رحمۃ اﷲ علیہ کی معرکۃ الآراء ضخیم عربی فقہی کتاب ہے ۔یہ کتاب اگرچہ علم فقہ سے متعلق ہے تاہم اس میں شرعی مسائل کے بیان کے ساتھ ساتھ اعتقادی،سماجی، معاشرتی،اقتصادی اور دیگر علوم و فنون کا بھی جا بجا ذکر ہے ۔نیز دوسری فقہی کتابوں کے برخلاف اس میںعرفان و تصوف اورعشق و محبت الٰہی سے متعلق بھی بہت کچھ بیان ہے۔یوں اس کے مباحث کا دائرہ بہت وسیع ہے ۔

Mirajiya
Sep

16

2015

Mirajiya

یہ کتاب معراجیہ کے نام سے فارسی میں ہے جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے کہ یہ معراج النبی ﷺ کے موضوع پر ہے اور معراج النبی شروع سے ہی ایک دلچسپ اور وجد آفرین موضوع رہا ہے مسلمانوں میں معراج کے واقعے پر تو اختلاف نہیں البتہ اس کی کیفیت اور ماہیت پر شروع سے سخت اختلاف رہا ہے چنانچہ اس موضوع پر بیسیوں کتابیں تصنیف ہوئی ہیں اور اب بھی معراج النبی کی حقیقت وماہیت اور غرض وغایت پر کتب ورسائل اور مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں نوربخشؒ نے بھی اپنا نقطہ اس میں پیش کیا ہے۔

Maktubat Noorbakhsh
Sep

16

2015

Maktubat Noorbakhsh

مسلک نوربخشیہ کے تقریبا تمام بزرگ اپنے وقت میں علوم و فنون کے استاد و ماہر ، دین اسلام کے مبلغ ،روحانیت کے پرچارک اور کتب کثیرہ کے مصنف ہوا کرتے تھے یہ سب بہترین مبلغ اورمرشدطریقت بھی تھے چنانچہ انہوں نے بکثرت کتابیں اوررسالے تصنیف کئے ہیں جو امتداد زمانہ کی چیرہ دستیوں کے باوجوداب تک محفوظ ہیں میرسیدمحمدنوربخش رحمۃ اﷲ علیہ ان میں سے ایک ہیں۔آپ کی مختلف موضوعات پر اصل تصنیف۲۸کتب و رسائل ہیں آپ بہت اچھے انشاء پرداز اورمنجھے ہوئے عرفانی شاعر ہیں آپ فارسی بالخصوص عربی زبان میں ایک خاص علمی و ادبی طرز تحریر کے بانی ہیں ۔

Sair Wa Salook
Sep

16

2015

Sair Wa Salook

اس کا نام’’ سیر و سلوک ‘‘تجویز کیاگیا ہے۔ اس رسالے میں سلوک اختیار کرنے اور ذکر و ریاضت کرنے کا ذکر ہے۔ ذکر الٰہی میں مشغول ہو جانے اور ریاضات و مجاہدہ بجا لانے سے سالک کو روحانی ترقی ملتی ہے اور اس کی روح میں بالیدگی پیدا ہوتی جاتی ہے۔ عناصر اربعہ کی وجہ سے سالک کی روح پر جو تاریکی ،ظلمت اور آلودگی چھائی ہوئی ہوتی ہیں۔ ذکر الہی اور ریاضات کی بدولت یہ سب ایک ایک کرکے دور ہوتی جاتی ہیں اور سالک آگے بڑھتا چلا جاتا ہے اور وہ اولیائے کرام کی صف میں جا شامل ہوتا ہے ۔آخر کار فنا فی اﷲ اور بقا باﷲ سے مشرف ہو جاتا ہے ۔

kitab Nooriya
Sep

16

2015

kitab Nooriya

یہ کتاب نوریہ یا نور الحق کے نام سے فارسی زبان میں ہے اس میں اخلاقِ حمیدہ ، رویائے صادقہ،اطوارسبعہ،انوارمتلونہ،درجات نفس،نفسی ترقیات،مشاہدات اور مکاشات اورتجلیات کا بیان ہے یہ اہل علم کے ہاں بڑی مقبول کتاب ہے یہ کتاب ابتک ایران میں دو بار پہلی بار شمسی میں سبع المثانی کے حاشیہ پر ’’رسالہ نوربخشیہ‘‘کے نام سے اور دوسری بار۱۳۵۱شمسی میں احوال وآثار نوربخش میں’’نوریہ ‘‘ کے نام سے چھپ چکی ہے تاہم دنیامیں کسی اور جگہ اس کی اشاعت کا ہمیں علم نہیں ہے ۔اس کا آغاز یوں ہوتا ہے ۔

Jawab-e-Fiqa
Sep

16

2015

Jawab-e-Fiqa

یہ میر سید محمد نوربخشؒ کا ایک خط ہے جسے فقہاء کے ایک گروہ کے ایک سوال کے جواب میں قلم بند کیا ہے گو سید نوربخش ؒنے کسی فرد یا علاقے کا نام نہیں لیا اس لئے حتمی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتاکہ ان فقہاء کا تعلق کس ملک یا علاقے سے تھا؟لیکن رسالے کے مشمولات سے اندازہ ہوتا ہے کہ فقہاء نے پیر و مرشد کی ضرورت و اہمیت اور شرائط و آداب سے متعلق سوال کیا تھا یوں اس کے جواب میں یہ تحریر منصۂ شہود پر آئی ہے ۔اس رسالے کے مشمولات قارئین گرامی خود ملاحظہ فرمائیں گے ۔

Shanakht Awliya
Sep

16

2015

Shanakht Awliya

یہ رسالہ اولیاء اﷲ کی شناخت سے متعلق ہے ۔اس سلسلے میں حضرت شیخ علاؤالدولہ سمنانی کاولی اﷲ کی شناخت سے متعلق کعبہ میں بوسیلۂ پیغمبرصلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم دعا کرنا ، اس کا قبول ہونا اور شیخ عبدالوہاب بارسینی سے ملاقات ہونا مذکور ہے۔ اسی طرح حضرت خواجہ اسحاق ختلانی کا میر سید علی ہمدانی کی خدمت میں پہنچنا اور ریاضت کرنا شیخ نور الدین جعفر بدخشی کی کتاب خلاصۃ المناقب سے نقل کیا گیا ہے ۔نسخے پر کوئی نام موجود نہیں لیکن مستنسخ نے’’ من افادات نوربخش فی معرفۃ الولی ‘‘کا عنوان قائم کیا ہے ۔

Maash Salkin
Sep

16

2015

Maash Salkin

زیر نظر رسا لہ ایک مبتدی سالک کی معاش کے موضوع پر ہے ۔اسلام میں رزق حلال کی جو اہمیت ہے۔ اس کتاب میں اسی کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اس موضوع پر سلسلۃ الذ ہب کے شیو خ میں سے میر سید علی ہمد انیؒ ، سید محمد نور بخش اور میر شمس الد ین محمد لاہیجی قدس اللہ اسرا رہم نے قلم اُٹھایا ہے۔اس کا آغاز اس عبارت سے ہوتاہے :’’الحمد ﷲ علی نعمائہ والصلوۃ علی محمد واٰلہ و خلفائہ ۔

Sahifatul Awliya
Sep

14

2015

Sahifatul Awliya

یہ میر سید محمد نوربخش ؒکی ایک معرکۃ الآرا فارسی میں منظوم کتاب ہے جس میں شاعر مصنف نے اپنے بقول ان اولیاء کا تدکرہ کیا ہے جو اس کو نظم کرتے وقت زندہ اور رو بحیات تھے اگرچہ مصنف نے صرف اس وقت زندہ موجود اولیا کا تذکرہ کرنے کی بات کی ہے لیکن اس میں اپنا زنجیرۂ طریقت بھی دیا ہے جو خواجہ اسحاق ختلانی سے شروع ہوکر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم پر ختم ہوتا ہے نیز اس میں بے شمار دوسرے ایسے موضوعات پر بھی انہوں نے قلم اٹھایاہے جواولیائے کرام یا ولایت سے بالواسطہ یا بلا واسطہ تعلق رکھتے ہیں مثلا اولیاء کی شناخت و پیروی،مجاذیب حق کی نشانی اور ان کے بارے میں شرعی فتوی،اپنا اور اپنے سلسلۂ طریقت کا تعارف ،پیران باطل کی نشانی اور ان کی مثالیں، عمل صالح کی اہمیت وغیرہ وغیرہ


Page 1 of 212